Friday, 25 April 2014

سوچیں۔۔کیا ہیں؟؟

یہ سب باتیں جو میں لکھ رہی ہوں یہ نا مکمل ہیں۔وہ باتیں ہیں جو مجھے اکثر تنگ کرتی ہیں۔اسی لئے سوچا کہ لکھ ہی لوں۔ 
امید کرتی ہوں کہ پسند آئیں گی۔آہستہ آہستہ ان میں اضافہ کروں گی۔ 

بندہ جب سوچنے پہ آتا ہے تو سوچے ہی چلا جا تا ہے۔جب تک کان سے پکڑ کے واپس نہ لاؤ تو واپسی نا ممکن لگتی۔انسان کی سوچ اسے کہاں سے کہاں تک لے جاتی ہے۔ کبھی اچھا سوچتا تو اچھا ہی سوچتا اور برا سوچنا شروع کر دے تو برے سے برا سو چے جاتا۔۔

  کیا انسان اپنی سوچ کو بدل سکتا ہے؟ ُ اگر ہاں تو کس طرح؟؟؟




Thursday, 16 June 2011

اصل تفریح کیا ہے-کھیل کھلینا یا ٹی وی اور موویز دیکھنا

تفریح انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔یہ انسان کو پریشانیاں بھلانے اور فریش ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اور انسان کو صحت مند رکھتی ہے۔




 سوال یہ ہے کہ

اصل تفریح کیا ہے-کھیل کھلینا یا ٹی وی اور موویز دیکھنا

کھیل یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت اور قوت کو استعمال کرے یعنی کوئی جسمانی کام کرے۔ بغیر قوت صرف کیے کھیل تو نہیں ہوسکتا۔ وہ تو کچھ اور ہی ہو گا جسے میں بھی نہیں جانتی اور شاید آپ بھی نہیں۔ اگر جانتے ہیں ضرور بتائیے۔
کھیل تو بہت سارے ہیں۔

اس کے بر عکس ٹی وی اور موویز دیکھنا  کھیل تونہیں ۔کیونکہ  یہ انسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ایک طرف تو سر درد کا اوردوسری طرف اعصاب پر بوجھ یعنی ڈپریشن کا باعث بنتےہیں۔
ایک ہی عمر کے بچوں کی دو طرح کی مصروفیات ہیں۔ایک   اپنے گلی محلےمیں کھیل (کرکٹ وغیرہ) کھیلتا ہےاور دوسراٹی وی یا مویز دیکھتا ہے۔

 اہم سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟
فرق صرف اتنا ہے کہ پہلا صحت مند اور دوسرا کمزور ہے۔دوسرا خوامخوا ساس بہو کی لڑائیوں کی وجہ سے اپنا خون جلاتا ہے
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔
فیصلہ آپ کریں کہ
اصل تفریح کیا ہے؟ 



یا


Thursday, 9 June 2011

ضروریات یا خواہشات

میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ

اپنی زندگی کو ضروریات تک محدود رکھو اور خواہشات سے پرہیز کرو کیونکہ ضروریات فقیر کی بھی پوری ہوتی ہیں اور خواہشات بادشاہ کی بھی ادھوری ر  ہ جاتی ہیں۔


 اگر اس بات کو  سامنے رکھتےہوئے دیکھیں تو  موجودہ دور کا ہر شخص ہی خواہشات کے پیچھے  بھاگ رہا ہے۔ ہر ایک کے سر پر خواہشات کابھوت سوار ہےجس کی وجہ سے وہ  ہر طریقہ آزما رہا ہے۔کہیں خواہشات کی خاطر چوری تو کہیں رشوت سے کام لے رہا ہے۔حتی کہ دوسروںکا حق چھیننےسے بھی باز  نہیں آرہا۔فرینکلن نے کیا خوب کہا ہے

اپنی پہلی خواہش کو دبانا ساری خواہشات کو پورا کرنے کی نسبت بہت آسان ہے۔

جہاں تک بات ضروریات کی ہے تو  ضروریات اورخواہشات میں واضح فرق ہے۔کپڑے پہننا،کھانا کھانا اور سواری استعمال کرنا  ضروریات ہیں۔مگرنت نئے فیشن کے مطابق پہننا،اچھا کھانا پینااور نئی ماڈل کی گاڑی کے علاوہ کوئی اور استعمال نہ کرنا خواہشات ہیں۔ایک بات اورکہ
ہر خواہش ضرورت نہیں ہوتی مگر ہر ضرورت خواہش ہوتی ہے۔

مشہور مقولہ ہے
ضرورت ایجاد کی ماں  ہے۔
انسان کو جیسے جیسے جس جس چیز کی ضرورت پڑی وہ اپنی عقل کو  استعمال کرکے وہ ایجاد کرتا گیا۔حفاظت کے لئے گھر بنا ڈالا،جسم کو ڈھاپنے کے لئے کپڑےاور اتنی ترقی کی کہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دوسرے کونےکا حال جاننے لگا۔
ارے اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر خواہش ایجاد کی ماں ہوتی تو کیا ہوتا؟ہوتا یہ کہ

خواہش ایجاد کی سوتیلی ماں ہوتی۔

Wednesday, 8 June 2011

پانچ باتوں کی باز پرس

قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے ۔ یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کی باز پرس نہ ہو ۔    
عمر کن کاموں میں گزاری۔                                     
جوانی کی توانائیاں کہاں صرف کیں۔
مال کہاں سے کمایا۔
مال کہاں خرچ کیا۔
جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا۔

Tuesday, 7 June 2011

کامیابی حاصل کرنے کے طریقے

کامیابی حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں ۔
(۱) اللہ تعالی کا کرم
(۲) بڑوں کی دعائیں
(۳) اپنی محنت

Monday, 6 June 2011